جب میں بارہ سال کی تھی

میں والدین کی اکلوتی اولاد ھوں میں جب پیدا ہوئی تو گھر والے بہت خوش ہوئے کیونکہ میں شادی کے آٹھ سال بعد پیدا ہوئی تھی میں گھر والوں کی آنکھ کا تارا ھوں بچپن سے ہی میں بہت خوبصورت ھوں گول مٹول چہرہ اوپر سے نیلی آنکھیں گورا رنگ اور گال ایسے سرخ جیسے قندھاری انار ھوں دیکھنے والی پہلی نظر میں مجھے ایک خوبصورت پٹھانی سمجھتے ہیں
جب بھی کوئی مہمان ہمارے گھر آتا تو وہ مجھے ضرور گود میں اٹھاتا کیونکہ میں بالکل گڑیا کی طرح لگتی تھی
جب میں چار سال کی ہوئی تو گھر والوں نے مجھے شہر کے سب سے بہترین سکول میں داخل کروایا ، میں کلاس کی سب سے حسین لڑکی تھی ایک تو میں حسین تھی اور اوپر سے ذھین بھی ، اسلئے کلاس کی سب ٹیچرز مجھے بہت پسند کرتی تھیں
جب میں تیسری جماعت میں آئی تو میرے محلے کی ایک لڑکی میری کلاس میں داخل ہوئی اس کا نام ثنا تھا چند ہی دنوں میں ہم سہلیاں بن گئیں اور کھیلنے کے لئے ایک دوسرے کے گھر آنے جانے لگیں ، میں جب بھی ان کے گھر جاتی تو میں اور ثنا چھت پر کھیلا کرتی تھیں ان کی چھت پر ایک پرانی چارپائی تھی جسے ہم نے دیوار کے ساتھ کھڑا کر لیا تھا اور اس پر ہم نے ایک بڑی سی چادر ڈال کر اسے چاروں طرف سے بند کر کے ایک چھوٹا سا گھر بنایا ہوا تھا اس گھر میں ہم اپنی گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں میری سہیلی کا بھائی بھی کبھی کبھی ہمارے ساتھ کھیلا کرتا تھا وہ ثنا سے تین چار سال بڑا تھا ،
میں ایک دن اپنی ایک کتاب وہاں کلاس میں بھول آئی تھی میں گیٹ پر کھڑی پاپا کا انتظار کر رہی تھی وہ مجھے لینے ابھی تک نہیں پہنچے تھے سکول کے زیادہ پر بچے جا چکے تھے
اچانک مجھے اپنی کتاب یاد آئی میں فورا اپنی کلاس میں گئی اور اپنی کتاب اٹھا کر کلاس سے باہر نکلی تو میری نظر سامنے دسویں کلاس کی کھڑکی کی طرف پڑی تو وہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ایک دوسرے سے کسنگ کر رہے تھے مجھے بہت عجیب لگا لیکن میں وہاں رکی نہیں اور سیدھی گیٹ پر آ گئی میرے پاپا اتنی دیر میں آ چکے تھے میں ان کے ساتھ گھر چلی آئی لیکن یہ واقعہ جیسے میرے ذہن پر ثبت ہو کر رہ گیا تھا میں جب بھی کسی فلم میں کسنگ سین دیکھتی تو میری فیلنگز feelings عجیب سی ہو جاتیں لیکن میں ان کو سمجھنے سے قاصر تھی کیونکہ بچپن کے دن تھے میں سیکس کی الف ب بھی نہیں جانتی تھی ایسے ہی تین چار سال گزر گئے لیکن ہماری ایک دوسرے کے گھر جا کر کھیلنے والی عادت نہیں بدلی - ایک دن ہم نے اپنی گڑیا کی شادی کی ، ہم جب بھی نئی گڑیا خریدتیں تو ان کی آپس میں شادی ضرور کرتیں تھیں شادی والے دن ہم کیک ، پیسٹری وغیرہ ثنا کے بھائی سے ہی منگواتی تھیں اسطرح وہ بھی شادی میں شریک ہو جاتا تھا
اس کی عمر تقریبا پندرہ سال ہو چکی تھی اور میں بھی اس وقت بارہ سال کی ہو چکی تھی ایک دن ہم نے گڑیا کی شادی کی تو ثنا کے بھائی نے کہا کہ گڑیوں کی شادی تو بہت دفعہ ہو چکی ھے اب اگلی دفعہ ہم ایک دوسرے سے شادی کریں گے اور آپس میں کھیلیں گے
بچپن کے دن تھے اتنی زیادہ سمجھ بوجھ بھی نہیں تھی اور نہ ہی شادی کی اصل حقیقت سے واقف تھیں اسلئے ہم مان گئیں
ثنا کے بھائی نے کہا کہ سنڈے کو ہم شادی شادی کھیلیں گے -
سنڈے والے دن میں ثنا کے گھر گئی تو ثنا اور اس کا بھائی سنی مجھے لے کر چھت پر چلے گئے چھت پر ہم اپنے مخصوص کمرے میں چلے گئے جو ہم نے چارپائی سے بنایا ہوا تھا سنی نے مجھ سے کہا کہ آج میں اور تم شادی کریں گے آج تم ثنا کی بھابی بنو گی اور ثنا آج کے بعد تمہاری خدمت کیا کرے گی - بچپن کی باتیں آج یاد آتی ہیں تو خود پر ہنسی آتی ھے کہ بچپن بھی بس بچپن ہوتا ھے لیکن بچپن کے اس واقعے نے میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی اور میں پہلی دفعہ سیکس کے مزے سے آشنا ہوئی تھی جو کہ بہت تکلیف دہ اور برا ایکسپیرینس experience تھا -
ہاں تو بات ہو رہی تھی بچپن کے اس واقعے کی تو کہانی کی طرف آتی ھوں - سنی نے مجھ سے پوچھا کہ تم مجھ سے شادی کرو گی تو میں نے ثنا کی طرف دیکھا تو سنی نے کہا کہ بہن بھائی کے درمیان شادی نہیں ہوتی اسلئے تمہیں ہی مجھ سے شادی کرنی پڑے گی ، میں نے کہا ٹھیک ھے کہ آپ مجھ سے ہی شادی کر لو -
جب ہم گڑیا اور گڈے کی شادی کرتے تھے تو گڈے کی طرف سے گڑیا کے گلے میں ایک ہار پہنا دیا کرتی تھیں اور کیک اور پیسٹری کھا کر گڑیا اور گڈے کی رخصتی کر دیتی تھیں - اگر میرا گڈا ہوتا تو میں اس کی گڑیا ساتھ لے آتی اور اگر میری گڑیا ہوتی میں وہاں چھوڑ آتی -
سنی کے پاس بھی ایک ہار تھا اس نے میرے گلے میں پہنا دیا اور کہا کہ اب تم میری دلہن ہو ، میں نے کہا کہ آپ میرے دلہا ہو - پھر ہم نے مل کر مٹھائی کھائی جو سنی ہماری شادی کے لئے سپیشل لے کر آیا تھا سنی نے اپنی بہن ثنا سے کہا کہ جب دلہن تئی تئی گھر آتی ھے تو وہ کام نہیں کرتی اسلئے اب گھر کے کام تم نے کرنے ہیں بعد میں گھر کے کام آپ کی یہ بھابی ہی کیا کرے گی اس نے میری طرف ہاتھ کرتے ہوئے کہا -
ثنا اب تم ہمارے لئے چائے بنا کر لاؤ سنی نے کہا اور ثنا چائے بناتے چلی گئی
ثنا جیسے ہی نیچے گئی تو سنی نے کہا دولہا اور دلہن ساتھ سوتے ہیں اس لئے آپ میرے ساتھ ہی لیٹا کرو گی اب ، میں نے بھی ماما پاپا کے ساتھ کچھ فلموں میں دیکھا تھا کہ دولہا اور دلہن علیحدہ کمرے میں اکٹھے ہی رہتے ہیں لیکن مجھے یہ پتا نہیں تھا کہ وہ علیحدہ کیوں سوتے ہیں ،
سنی نے کہا کہ لیٹ جاؤ میں نیچے چٹائی پر لیٹ گئی اور سنی بھی میرے ساتھ ہی لیٹ گیا
اس نے میری طرف منہ کر کے اپنی ٹانگیں میری ٹانگوں پر اور ہاتھ میرے سینے پر رکھ دیا اس وقت میرے سینے پر بہت معمولی ابھار تھے اور ابھی بالکل ہی چھوٹی چھوٹی نپلز تھیں یعنی کہ میرے ممے ( چھاتیاں ) نکلنے کی ابتدا تھی
میں ان چند خوش نصیب لڑکیوں میں سے ایک ھوں جن کے نپلز کا رنگ گلابی ھے
ان دنوں مجھے تو کسی بات کا بھی پتا نہیں تھا جبکہ سنی نیا نیا جوان ہو رہا تھا اس نے لڑکوں سے سیکس سے متعلقہ باتیں سنی تھیں کہ مرد اور عورت کا تعلق کس قسم کا ہوتا ھے اور وہ کیا کیا کرتے ہیں لیکن یہ سب سنی سنائی باتیں تھیں اسے بھی مکمل معلومات نہیں تھی جس کا آپ کو آگے جا کر اندازہ ہو جائے گا سنی نے میرے سینے پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا سنی نے میرے نئے نکلتے ہوئے مموں کو آہستہ آہستہ سہلانا شروع کر دیا میری اس وقت عجیب سی فیلنگز feelings ہو رہی تھیں مجھے انجانا سا احساس ہو رہا تھا جس کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی اور میرے جسم میں بےچینی سی ہونے لگی تھی
اب سنی نے اپنا ہاتھ میرے سینے سے نیچے میرے پیٹ پر پھیرنا شروع کر دیا میں انجانی سی لذت محسوس کرنے لگی تھی اس کا ہاتھ میرے پیٹ سے گردش کرتا ہوا نیچے میری پیشاب والی جگہ کی طرف جانے لگا لیکن اس سے پہلے ہی اس کا ہاتھ میری رانوں کی طرف چلا گیا اور سنی میری نرم و نازک تھائیوں thigh کو سہلانے لگا ان پر بڑی اھستگی اور نرمی سے ہاتھ پھیرنے لگا میرے کنوارے جسم میں عجیب لذت بھرا خمار چھا رہا تھا جس کی مجھے اس وقت بالکل بھی سمجھ نہیں تھی لیکن میٹھا میٹھا احساس میری رگوں میں ضرور اتر رہا تھا، اس کی انگلیوں کی ہر جنبش میرے جسم میں کرنٹ پیدا کر رہی تھی اور یہ فیلنگز مجھے مزا دے رہی تھیں اسلئے میں سنی کو روک نہیں پا رہی تھی مجھے اتنا تو پتا تھا کہ یہ ٹھیک نہیں ھے لیکن اتنا زیادہ غلط کام ہو گا اس کا مجھے بالکل بھی پتا نہیں تھا
اب سنی نے میرے چہرے کو بھی چومنا شروع کر دیا تھا اس کے ہونٹوں کے لمس نے مجھے مزے کی انوکھی دنیا سے روشناس کروایا جس طرح آج کل لوگ ہونٹوں میں ہونٹ ڈال کر کس کرتے ہیں ان دنوں ایسی عادتیں لوگوں میں بہت کم تھیں آج کل تو سیکس کی ابتدا ہی ہونٹوں سے کسنگ سے ہوتی ھے
ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ سنی نے مجھ سے کسنگ شروع کر دی تھی جس کا مجھے بہت مزا آ رہا تھا ، میری سانسوں کی رفتار میں تیزی آ رہی تھی اور سنی کا ایک ہاتھ اس دوران میری پھدی پر چلا گیا تھا اور وہ اس پر انگلیاں پھیرنے لگا اس کے ہاتھ کا میری پھدی پر لگنا ہی تھا کہ میرے جسم کو ایک لذت بھرا جھٹکا لگا اور میں مزے کی انتہا گہرائیوں میں ڈوب گئی اور میرے منہ سے خود بخود آہ . . . اوہ . . . اف . . . آہ . . . جیسی سسکاریاں نکلنے لگیں
اس سے پہلے کہ سنی میرے ساتھ کچھ اور کرتا سنی کی بہن چائے بنا کر لے آئی اس کی سینڈلوں کی آواز سیڑیوں سے ہی سنی نے سن لی تھی اسلئے فورا وہ سیدھا ہو گیا تھا اور مجھے کہا کہ ثنا کو کچھ نہیں بتانا-
ثنا تین کپ چائے بنا کر لائی تھی اس نے ایک کپ سنی کو دیا اور ایک کپ میری طرف بڑھایا ، اس کی نظر میرے چہرے پر پڑی تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ
کیا بات ھے تمہارا چہرہ اتنا سرخ کیوں ہو رہا ھے ؟
اس وقت میرے دل کی دھڑکنیں بہت تیز تھیں اور میرا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا لیکن ثنا نے محسوس نہیں کیا تھا،
میں خاموش رہی ، میں نے کوئی جواب نہیں دیا مجھے خاموش پا کر سنی نے اپنی بہن سے کہا کہ اس کو اچانک بخار ہو گیا ھے اور بخار کی وجہ سے اس کا چہرہ بھی سرخ ہو گیا ھے - آج سوچتی ھوں تو ہنسی آتی ھے کہ یہ کوئی معقول بہانہ نہیں تھا اگر ثنا کی جگہ اس کی ماما یا میری ماما ہوتی تو شاید معاملہ بھانپ جاتی لیکن ثنا بھی میری طرح بارہ سال کی تھی اسے بھی ان دنوں ایسی باتوں کا پتا نہیں تھا اسلئے اس نے پریشانی سے کہا کہ جلدی سے ڈاکٹر کے پاس جاؤ - سنی نے کہا کہ اب اسے چائے تو پی لینے دو- آج ہی میری شادی ہوئی ھے اور تم میری دلہن کو بھگا رہی ہو - ثنا نے کہا دولہا جی پہلے دلہن کی دوائی تو لاؤ - میں نے کہا کہ میں پاپا کے ساتھ چلی جاؤں گی مجھے گھر جانا ھے ثنا نے کہا کہ پہلے چائے تو پی لو ، میں چائے پینے کے بعد اپنے گھر آ گئی -
اس دن پہلی دفعہ میرے ساتھ ایسا کچھ ہوا تھا اور مجھے بہت اچھا لگا تھا میں نے گھر میں بھی کسی کو نہیں بتایا اور نہ ہی اپنی کسی سہیلی کو ، ثنا کو بھی نہیں ، دل کے کسی کونے میں یہ ضرور تھا کہ یہ غلط کام ھے اسلئے کسی کو نہیں بتانا چاہئے اور نہ ہی کسی کو بتایا تھا ،

اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی مجھے ابھی مرد اور عورت کے درمیان تعلقات سے آگاہی حاصل نہیں ہو سکی تھی پہلے میں صرف ثنا سے کھیلنے کے لئے جاتی تھی لیکن اس دن کے بعد میرے دل میں یہ خواہش بھی ہوتی تھی کہ سنی میرے کنوارے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرے اور مجھے چومے ، میری یادداشت میں چار سال پہلے کا وہ واقعہ بھی گردش کرنے لگا تھا جب میں نے دسویں کلاس کے لڑکے اور لڑکی کو کس kiss کرتے دیکھا تھا
میں معمول کے مطابق ثنا کے گھر کھیلنے جاتی سنی کبھی گھر ہوتا تھا تو کبھی دوستوں کے ساتھ کھیلنے گیا ہوتا تھا ، ثنا کے ہوتے ہوئے دوبارہ ایسا کوئی موقع نہیں آیا کہ سنی کھل کر ویسی حرکت کرتا لیکن موقع محل دیکھ کر وہ کبھی مجھے انگلی کر دیتا تھا تو کبھی میرے سینے پر چٹکی بھر لیتا، ایسے ہی ایک مہینہ گزر گیا ، ایک مہینے میں ہی میری چھاتیاں جو نہ ہونے کے برابر تھیں اب واضح ہونا شروع ہو گئی تھیں جبکہ ثنا کی ویسی کی ویسی تھیں -
میں اس وقت ساتویں جماعت میں تھی اور سنی نے دسویں کے بعد ابھی کالج میں داخلہ لیا ہی تھا اور اس کے دوستوں میں ایک لڑکا بری صحبت کا شکار تھا جس نے سنی کو مرد اور عورت کے تعلقات کے بارے میں بہت سی باتیں بتائی تھیں جس وجہ سے وہ میرے ساتھ یہ سب کر رہا تھا (یہ سب کچھ سنی نے مجھے بعد میں بتایا تھا) -
ایسے ہی ایک دن میں ثنا کے گھر گئی تو گھر میں سنی کے سوا کوئی نہیں تھا - سنی نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ ثنا ماما کے ساتھ بازار گئی ھے اور انہیں آنے میں کافی وقت لگے گا ، چاہئیے تو یہ تھا کہ میں واپس چلی جاتی لیکن ذہن کے کسی کونے میں اس دن کا مزا تھا جس نے مجھے جانے نہ دیا ، سنی مجھے کہنے لگا کہ آؤ اتنی دیر ہم دلہا دلہن کھیلتے ہیں وہ مجھے لے کر کمرے میں چلا گیا
کمرے میں لے جا کر سنی نے مجھے بیڈ پر بیٹھنے کا کہا اور خود میرے ساتھ بیٹھ گیا ، اس نے مجھ سے پوچھا کہ "اس دن والی بات کسی کو بتائی تو نہیں" ؟
میں نے نفی میں سر ہلایا تو سنی نے کہا - "اس دن اچھا لگا تھا" ؟
میں نے اثبات میں سر ہلایا تو سنی نے کہا "آج پھر کرتے ہیں"،
میں خاموش رہی تو سنی نے مجھے وہاں ہی بیڈ پر لٹا لیا اور خود بھی ساتھ لیٹ کر مجھے سینے سے چمٹا لیا یعنی کہ مجھ سے جپھی ڈال لی، میرے سینے کے چھوٹے چھوٹے ابھار اس کے سینے سے لگے ہوئے تھے تھوڑی دیر تو وہ ایسے ہی رہا پھر اس نے میری کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ، اس کے ہاتھوں کے لمس نے میرے اندر عجیب سی بےچینی بھر دی تھی ، اس دوران اس کا لن تناؤ کی حالت میں آگیا تھا اور مجھے اپنی ٹانگوں پر اس کی سختی محسوس ہو رہی تھی اور اس سے مجھے گدگدی کا احساس ہو رھا تھا - پھر اس نے میرے چہرے کو چومنا شروع کر دیا اس کے ہونٹوں کے لمس نے میرے جسم میں آگ لگا دی تھی اور میرے کنوارے جسم میں بےچینی کی لہریں ڈورنے لگیں تھیں میں اس وقت بارہ سال کی تھی اور میری ماہواری کا بھی ابھی آغاز نہیں ہوا تھا اور مجھے سیکس کی بھی کوئی شدبد نہ تھی لیکن اس کے باوجود مجھے بہت مزا آ رھا تھا-
سنی نے اب کی بار میری قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر میری آدھ نکلی چھوٹی چھوٹی چھاتیوں کو ایک ہاتھ سے سہلانا شروع کر دیا جس سے مجھے اور بھی مزا آنے لگا تھا اور میری سانسیں خود بخود بہت تیز ہو گئی تھیں اسے اس کے دوستوں نے بتایا تھا کہ عورت کی چدائی کرنے سے پہلے اسے گرم کرتے ہیں اور گرم کرنے کا جو طریقہ اسے بتایا گیا تھا کہ اس کو چومتے ہیں اس کی چھاتیاں سہلاتے ہیں اس کے جسم پر ہاتھ پھیرتے ہیں وہ ان پر عمل کر رھا تھا اور وہ میرے ساتھ ایسا ہی کر رھا تھا مجھے چدائی کا تو پتا نہیں تھا میں نے کیا گرم ھونا تھا کیونکہ میں تو پہلے سے ہی ایک طرح کی گرم تھی اور مجھے بہت مزا آ رہا تھا ویسے بھی جن لڑکیوں کو سیکس کے بارے میں معلومات ہوتیں ہیں لیکن ابھی سیکس نہیں کیا ہوتا وہ تو ہاتھ لگانے سے ہی گرم ہو جاتی ہیں میں ابھی بارہ سال کی ایک چھوٹی بچی تھی اور مجھے اتنا مزا آ رھا تھا تو ایک جوان کنواری لڑکی کا کیا حال ہوتا ہو گا وہ تو مزے سے مرنے والی ہو جاتی ہو گی تھوڑی دیر اس نے میری چھاتی مسلنا جاری رکھی پھر اس نے میری قمیض اتارنے کی کوشش کی تو میں نے اتارنے نہ دی وہ تو مجھے ننگی کرنا چا رھا تھا اور یہ تو بہت غلط کام تھا جس پر میں نے اسے روکا تھا لیکن اس دن وہ کہاں رکنے والا تھا اس نے پہلے اپنی شرٹ اتار دی اور پھر بہت اصرار کے بعد میری قمیض بھی اتر گئی میں نے سنی کی ضد کے آگے ہار مان لی تھی سنی نے میرے چھوٹے چھوٹے مموں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اس کے ہونٹوں کے میرے مموں پر لمس نے مجھے ایک نئی دنیا سے متعارف کروا دیا تھا اور وہ دنیا مزے کی دنیا تھی جس سے میں صرف بارہ سال کی عمر میں ہی آشنا ہو گئی تھی اور جب اس نے میری پنک چھاتی کو اپنے ہونٹوں میں لیا تو بے اختیار میرے منہ سے سسکاری نکل گئی آہ . . . اف . . . . آں . . . آہ . . . آہ : : : : آہ . . . . جیسی آوازیں میرے منہ سے نکلنے لگیں جیسے جیسے وہ میری چھاتیوں کو منہ میں لے کر چوس رھا تھا میں بہت مزے میں تھی سنی میری آدھ کھلی جوانی سے کھیل رھا تھا
سنی میری آدھ کھلی جوانی سے کھیل رھا تھا لیکن مجھے اس کا احساس نہیں تھا کہ عورت کی عصمت اس کی عزت ہوتی ھے اور میں نادانستگی میں اپنی عزت لٹوا رہی تھی - آج کے دور میں جب لڑکے اور لڑکی کو جنسی تعلقات کے بارے میں آگاہی ابتدائی عمر میں ہی حاصل ہو جاتی ھے تو ایسے میں والدین کا فرض ھے کہ بچے کو اچھے برے کا احساس چھوٹی عمر میں ہی دلانا شروع کر دیں، دس بارہ سال کی عمر میں بچوں کو ایسے معاملات سے متعلق اچھے برے کاموں کا پتا ہوناچاہیےاور یہ آگاہی والدین کی طرف سے ہی ہونی چاہیے کیونکہ ہمارے ہاں جنسی تعلیم سے آگاہی سے متعلق کوئی ذریعہ نہیں ھے ایسے میں بچوں کے بھٹکنے کا اندیشہ رہتا ھے -
میں سنی کے گھر کے ایک کمرے میں اس کے ساتھ جنسی فعل میں مصروف تھی اور وہ میرے کنوارے جسم سے لطف اندوز ہو رھا تھا - سنی شرٹ کے بغیر تھااور میں قمیض کے بغیر ہم دونوں کا بالائی جسم ننگا تھا سنی میرے اوپر تھا اور میرے جسم پر کسنگ کر رھا تھا اور مجھے بھی بہت مزا آ رھا تھا - پھر سنی نے پہلے اپنی پینٹ اتاری اس نے انڈر وئیر نہیں پہنا ہوا تھا اس کا لن شاید اسوقت چار انچ سے تھوڑا بڑا تھا مکمل تناؤ کی حالت میں بالکل سیدھا کھڑا تھا اس نے میری شلوار کو ہاتھ ڈالا اور ایک ہی جھٹکے سے اس نے میری شلوار اتار دی میں اس وقت مزے میں تھی اور میں نے ننگا ہونے پر بہت زیادہ شرم محسوس نہیں کی کیونکہ میں اس وقت ایک نئی دنیا کی دریافت میں سنی کا ساتھ دے رہی تھی - سنی نے مجھے بھی ننگا کر دیا تھا آپ تصور کریں کہ ایک بارہ سالہ لڑکی جس کے چھوٹے چھوٹے ممے ھوں اور جس کی پھدی بالوں سے پاک ہو اور پھدی کے لپس آپس میں مضبوطی سے جڑے ھوں مطلب کے بہت ٹائٹ پھدی ہو اور ایسی لڑکی آپ کے سامنے ننگی لیٹی ہو اور آپ کی دسترس میں ہو تو آپ کو کتنا مزا آئے گا ؟ سنی بھی اسوقت اتنے ہی مزے میں تھا وہ میرے اوپر لیٹا ہوا تھا اور میری گلابی چھوٹی سی نپلز منہ میں لے کر سک suck کر رھا تھا اور میرے جسم میں لذت کی انوکھی لہریں گردش کر رہی تھیں -
عام طور پر پہلی دفعہ سیکس کرنے والے اتنا لمبا فورپلےforeplay نہیں کرتے لیکن سنی نے فورپلےforeplay میں کافی وقت لگا دیا تھا اور پھر اس نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ لن پھدی میں کرنے کے لئے کوشش کا آغاز کیا ، اس نے اپنا چارجر مطلب کہ اپنا لن میرے پھدی کے تنگ سوراخ پر رکھا اور ایک جھٹکا مارا لیکن لن میری پھدی میں داخل نہ ہوا اور میرے پٹوں میں سلپ کر گیا سنی کو اندازہ نہیں ہوا تھا کہ لن پھدی میں گیا ھے یا باہر ، اسلئے اس نے اوپر نیچے ہونا شروع کر دیا اپنی طرف سے وہ اندر باہر کر رھا تھا لیکن اس کا *** میری پھدی کے اوپر اوپر ہی حرکت کر رھا تھا اس نے تھوڑی دیر اوپر نیچے حرکت کی تو اسے احساس ہوا کہ لن اندر نہیں گیا تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا پھدی کے اندر جا رھا ھے تو میں نے نفی میں سر ہلایا تو سنی نے دوبارہ سے لن میری پھدی کے سوراخ پر رکھا اور پھر ایک جھٹکا مارا لیکن اس کا *** اس دفعہ پھر میری پھدی کے اوپر سے سلپ کر گیا اور اندر نہیں گیا اس دفعہ اوپر کی طرف سلپ ہوا تھا اسلئے سنی کو پتا چل گیا کہ اندر نہیں گیا جس طرح وہ اندر کرنے کی کوشش کر رھا تھا اس سٹائل میں اندر جانا کافی مشکل ہوتا ھے اور تجربہ کار مرد ہی ایسے اندر کر سکتا ھے ، میں بالکل سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور میری ٹانگیں بھی بالکل سیدھی تھیں اس کا بالائی جسم میرے اوپر تھا اور ٹانگیں میرے ٹانگوں کے دائیں بائیں تھیں اور وہ میرے اوپر لیٹ کر اندر کرنے کی کوشش کر رھا تھا
چدائی کے معاملہ میں سنی بالکل اناڑی تھا - دو دفعہ اس نے اندر کرنے کی کوشش کی تھی اور ناکام رھا تھا ، اسے ان دنوں ٹانگیں اٹھا کر یا سائڈوں میں کر کے جس سے پھدی کا سوراخ بالکل واضح ہو جاتا ھے اور اندر کرنے میں آسانی رہتی ھے جیسے آسان سٹائل کا پتا نہیں تھا اور ویسے بھی جنسیات میں سنی سنائی باتوں اور پریکٹیکل میں بہت فرق ہوتا ھے - سنی نے بہت کچھ سنا تھا لیکن پریکٹیکل میں ناکام ہو رھا تھا، تیسری بار کوشش میں بھی ناکام رہنے پر اس نے مجھے الٹا لٹا دیا، اب میں پیٹ کے بل الٹی لیٹی ہوئی تھی اور سنی پیچھے سے میرے اوپر سوار ہو گیا اور لن کو میرے نرم و نازک چوتڑوں کے درمیان اپنی طرف سے میری پھدی کے سوراخ پر رکھ کر اندر کرنے لگا اور پھر دوبارہ سے اوپر نیچے ہونے لگا لیکن وہی ڈھاک کے تین پات ، سنی پھر ناکام رھا تھا شاید اسے احساس ھو گیا تھا کہ اس سے اندر نہیں ہونا اسلئے اس نے اب زور زور سے اپنے لن کو میرے چوتڑوں میں ہی آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا تھا، وہ بہت جوش سے کر رھا تھا کہ اچانک میرے منہ سے ایک زور دار چیخ کے ساتھ نکلا
اس کا لن غلطی سے میری گانڈ میں انٹری مار چکا تھا اور مجھے ایسا لگا تھا جیسے میری گانڈ میں دہکتا انگارہ چلا گیا ہو یا پھر کسی نے میری گانڈ میں سرخ مرچیں ڈال دی ھوں، یکبارگی میرے جسم میں درد اور تکلیف کا ایک ریلا امڈ آیا تھا جس کے رد عمل میں میرے منہ سے زوردار چیخ کے ساتھ امی جی نکلا تھا، میں نے درد اور تکلیف کے شدید احساس سے رونا شروع کر دیا، لن جس تیزی سے اندر گیا تھا اتنی ہی تیزی سے باہر بھی آ گیا تھا کیونکہ سنی بہت جوش اور تیزی سے اوپر نیچے ہو رھا تھا میری چیخ کے ساتھ ہی سنی بھی رک گیا اور میں سیدھی ہو گئی اور میں نے رونا شروع کر دیا تھا سنی مجھے روتا دیکھ کر ڈر گیا اور مجھے چپ کرانے کی کوشش کرنے لگا - مجھے درد کا جو اک شدید جھٹکا لگا تھا آہستہ آہستہ اس کی شدت میں کمی آنے لگی تھی اور تقریبا پانچ دس منٹ رونے کے بعد میں چپ ہو گئی اور سنی نے مجھے میری شلوار قمیض پکڑائی جسے میں پہن کر واپس اپنے گھر آ گئی -
جیسے کہ میں آپ کو بتا چکی ھوں کہ میری زندگی کا یہ پہلا تجربہ بہت تکلیف دہ ثابت ہوا تھا اور اس تجربے نے پچھلا سارا مزہ بھلا دیا تھا اور جو آخری تجربہ تھا
‏ اس نے مجھے دوبارہ ایسے کسی کام میں شامل ہونے سے روکے رکھا اور شادی تک میں نے ایسا کچھ نہ کیا -
اس واقعے کے بعد میں چند ماہ بعد ہی بالغ ہو گئی تھی اور ماہواری سٹارٹ ہو گئی تھی اور میری چھاتیاں بھی تندرست و توانا ہو گئی تھیں جبکہ ثنا مجھ سے دو سال بعد جوان ہوئی تھی اور اس کی چھاتیاں بھی مجھ سے بہت چھوٹی رہ گئیں تھیں -
اس کے بعد میں کچھ عرصے کے لئے ثنا کے گھر نہیں گئی اور ثنا میرے گھر آنے لگی اور پھر میں نے بھی اس کے گھر جانا شروع کر دیا - اب میں جوان ہو چکی تھی اور مجھے ان باتوں کا بھی پتا چل گیا تھا اور میں نے اپنی عزت بچ جانے پر بہت شکر کیا تھا -
میرے پاپا اور ماما کے ہاں میرا کوئی جوڑ نہیں تھا، سنی نے ثنا سے مجھ سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تھا ثنا نے مجھ سے پوچھا تو میں نے بھی اعتراض نہیں کیا اور پھر ثنا کے ماما پاپا نے میرے ماما پاپا سے میرا رشتہ مانگا اور پھر بیس سال کی عمر میں میرے سنی سے شادی ہو گئی اور سہاگ رات کو سنی نے پہلی ہی بار میں اپنا لن جڑ تک میری پھدی میں گھسا دیا تھا اور اس بار میرے رونے کی پروا بھی نہیں کی اور اپنا کام جاری رکھا - اب میں کبھی کبھی مذاق کرتی ھوں کہ بچپن میں تم کتنے شریف تھے -
قارئین ! آپ نے اخبارات میں پڑھا ہو گا کہ پانچ سالہ بچی سے زیادتی ، کبھی دس سالہ بچی سے زیادتی اور کبھی بارہ سالہ بچے سے زیادتی ،
اس کی بہت ساری وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم وجہ والدین ہیں جو اپنے بچوں پر صحیح سے توجہ نہیں دیتے ، میں گھر سے یہ بتا کر جاتی تھی کہ میں ثنا کے گھر جارہی ھوں لیکن کبھی بھی میرے ماما پاپا نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میں وہاں کیا کرتی ھوں اور ساتھ میں کون کون کھیلتا ھے ؟ اب یہ بچے کی قسمت کہ جس گھر میں وہ جا رہا/رہی ھے اس گھر میں کوئی جنسی جنونی تو نہیں رہتا ، اگر رہتا ہوا تو یہاں سےبچے کی بدقسمتی کا آغاز ہوتا ھے اور پھر ساری زندگی یہ بدقسمتی اس کے ساتھ رہتی ھے، وہ ذہنی اور نفسیاتی دباؤ سے ہی نہیں نکل سکتا اور زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتا ھے، عام طور پر ایسے بچے جن کے ساتھ بچپن میں جنسی استحصال ہو چکا ہو، ان میں سے زیادہ تر بڑے ہو کر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایسے لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں - ایسے لوگوں سے اپنے بچوں کو بچا کر رکھنا چاہئے - میں اس کہانی کے ذریعے آپ لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ھوں کہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے کا جنسی استحصال نہ ہو تو اپنے بچوں کو دوسروں کے گھروں میں جا کر کھیلنے کی اجازت نہ دیں اور بچوں پر نظر رکھیں کہ اس کی دوستی کیسے لوگوں سے ھے -
میرا بھی جنسی استحصال ہوا لیکن ایک اناڑی کے ہاتھوں ،جسے ابھی جنسی معاملات کی اتنی سمجھ بوجھ نہیں تھی اور میری خوش قسمتی کہ میں اب اس کی سچ میں دلہن ھوں اور ہر کوئی میری طرح خوش قسمت نہیں ہوتا -

‏ ‏‎‎ختم شد‎‎‏
" امی جی" !
-

1 comment: